مسجد میں رومال یا مصلی رکھ دینا
سوال
مسجد میں یا کسی حلقہ وغیرہ میں کوئی شخص جائے اور جا کر وہاں کوئی کپڑا وغیرہ اپنی نشست کیلئے رکھدے تو آیا کوئی دوسرا شخص اس جگہ آکر بیٹھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی بیٹھ جائے تو پہلے شخص کو اس دوسرے شخص سے جھگڑا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ دلیل تحریرفرمائیں۔
جواب
اگر کوئی شخص آکر کسی جگہ بیٹھ گیا پھر کوئی فوری ضرورت پیش آئی جس کو پورا کرتے ہی لوٹ کر آئیگا مثلاً تھوکنا ناک صاف کرنا، وضو کرنا وغیرہ اور جاتے وقت اپنی جگہ کپڑا رکھ کر چلا گیا تو اس میں مضائقہ نہیں، اور دوسرے شخص کو اسکی جگہ بیٹھنا بھی نامناسب ہے، اور اگر کوئی شروع ہی سے کپڑا رکھدے اور اپنے کاروبار میں مشغول رہے اور نماز کے وقت آکر اپنی جگہ پر قبضہ جمائے یہ غیر مستحسن ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔