الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آپسی نا اتفاقی کی بناء پر ایک مسجد کو ویران کرنا

سوال

آپس کی نا اتفاقی کی بناء پر کسی نے یہ کہا کہ یہ مسجد ہماری ہے، تو دوسرے فریقان نے الگ مسجد تیار کر لی، اور وہ مسجد ایسی جگہ میں تیار کر لی ہے کہ اس زمین کا مقدمہ چل رہا ہے، جس کے قبضہ میں وہ زمین ہے اس نے مسجد بنالی اس خیال سے کہ پہلی مسجد ویران ہو جائے، اور اس میں نماز پڑھنے کے لئے کوئی نہ جائے، اور اب پہلی مسجد میں نمازی نہیں ہیں کم ہیں ایک یا دو آدمی نماز پڑھ لیتے ہیں، تو اس مقدمہ والی مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

یہ بہت غلط کام کیا کہ پہلی مسجد کو آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے ویران کر دیا اس کا وبال بہت سخت ہے، اگر دوسری جگہ مسجد بنائی گئی اور سامنے کوئی قبر نہیں ہے اور وہ جگہ مالک نے مسجد کے اسطے دیدی ہے، یا پہلے سے قبرستان کے لئے وقف ہے، مگر اب وہاں مردے دفن نہیں ہوتے د بلکہ دفن کے لئے دوسری جگہ موجود ہے، تو اس مسجد میں بھی نماز درست ہے، اب دونوں مسجدوں کو آباد کیا جائے، اور آپس کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو