پھینکے ہوئے سیمنٹ کو درست کر کے فروخت کیا گیا اور اس سے مسجد کا فرش بنایا گیا
سوال
او، این جی سی کمپنی کا بورڈ نگ کنڈکٹر نے اعلیٰ افسر کے آرڈر سے کمپنی کے گودام میں رکھا ہوا سیمنٹ گودام سے خارج کر کے پھینک دیا ہے، لیکن کمپنی کے ایریے میں چھوڑ رکھا تھا، پھر اس کو مزدور نے ریفائن کر کے بستہ بندی کی اور فی بوریہ ۲۵٪ روپے قیمت دیکر خریدا گیا ہے، حسب مناسب رات کو ۹ بجے ٹھیلہ کر کے وہ سیمنٹ مناسب مقام پر رکھ کر اس سے مسجد کا فلور سطح سفلی تیار کیا گیا ہے، تقریباً ۹ بجے بورے صرف کر کے یہ کام انجام دیا گیا ہے، پھر تقریباً مہینہ بھر نماز پڑھی جاتی رہی، بعد میں مقامی معتبر حضرات کو شبہ ہوا کہ اس میں نماز…
جواب
اگر اس کو بیکار قرار دیکر پھینک دیا گیا تھا، کہ جس کا دل چاہے اٹھا لے تو اب نماز میں کوئی شبہ نہ کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔