مانگا ہوا پیسہ مسجد میں صرف کرنا
سوال
ہمارے محلہ میں ایک ضعیف العمر بڑھیا رہتی ہے، جس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے، وہ مانگنے کا پیشہ کرتی ہے، محلہ والے اس کی مدد کرتے ہیں، لہذا ما نگا ہوا پیسہ کچھ اس کے پاس جمع ہو گیا تو اس نے مسجد کے واسطے ایک جائے نماز اور ایک قرآن شریف اور ایک تسبیح منگوادی ہے لوگوں کو اعتراض ہے وہ کہتے ہیں کہ نہ اس پر نماز جائز ہے، اور نہ بڑھیا کو کوئی ثواب ملے گا، بڑھیا ابھی زندہ ہے کیا کرنا چاہئے؟
جواب
بلاضرورت مانگنا گناہ ہے لیکن جب اس نے پیسہ مانگا اور اہل محلہ نے بخوشی اس کو دیا تو وہ بڑھیا مالک ہو گئی، اور اس نے جو کچھ مسجد میں دیا ہے، وہ دینا صحیح ہے،اس مصلے پر نماز بلا شبہ جائز ہے، بڑھیا کو سمجھا دیا جائے کہ اب تم کو مانگنا درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔