الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بھیک مانگا ہوا روپیہ مسجد میں دینا

سوال

ہمارے ایک قریب کے گاؤں میں ایک مؤذن بانگی نے اپنے قرب وجوار میں مد زکوة، فطره، چرم قربانی، چالیسواں، دسواں کا پیسہ اور غلہ وغیرہ بھیک مانگ کر چندہ کر کے جمع کیا، حج کرنے کیلئے جملہ رقم سات سو اکھٹا ہوئی تھی، تو اس گاؤں میں جس مسجد میں بانگی تھے اس مسجد کی تعمیر کیلئے گاؤں والے اس میں چندہ اکھٹا کر رہے تھے، تو بانگی نے جذبہ میں آکر سب روپیہ مسجد کی تعمیر میں دیدیا تو بتائیے اس روپئے کو مسجد میں لگانا درست ہے یہ بھی ہے کہ مسجد غریب بھی نہیں ہے، اس لئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسے روپیہ کو ایسی مسجد میں لگانا درست نہیں؟

جواب

اس کو اس طرح بھیک مانگنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن جو روپیہ اس کی ملک ہو چکا اور اس نے مسجد میں دیدیا وہ مسجد کے لئے درست ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو