لاوارث کا مال مسجد میں
سوال
نظام الدین نامی ایک شخص تھا وہ انتقال کر چکا اور کچھ سامان اور روپیہ چھوڑ گیا ہے، اور کوئی اس کا وارث بھی نہیں ہے، کہ جس پر تقسیم کیا جائے، اور نہ اس نے کوئی وصیت کی ہے، اب محلہ والوں کی خواہش ہے کہ اس کا مال مسجد میں صرف کر دیا جائے، تو کیا یہ صرف کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟ نیز اگر مسجد میں صرف نہ کیا جاسکے تو اس کی شکل کیا ہوگی؟ اور کس پر صرف کیا جائیگا؟
جواب
اگر اس شخص کا دور نزدیک کوئی وارث نہیں تو موجودہ حالت میں اس کے ترکہ کو مدرسہ یا مسجد میں صرف کیا جائے، کذافی در مختار، ص ۷۴۹ ج ۵ ثم يوضع في بيت المال لا إرثابل فيئاً
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔