چندہ مسجد وانجمن سے مٹھائی وغیرہ
سوال
ایک جگہ نہر کے محکمہ میں مسلمان ملازموں نے ایک مسجد عام چندہ سے بنائی اور اس میں امام مقرر کیا جس کو چندہ اکھٹا کر کے تنخواہ بھی دیتے ہیں، ایک انجمن بھی آبادی مسجد کے لئے بنائی گئی ہے، اس کے اکثر ممبر یہی اہل کار ہیں، اپنی اپنی تنخواہوں میں سے حسب حیثیت آٹھ آنہ روپیہ، دورو پیہ، پانچ دس روپیہ دیتے ہیں، وہ سب روپیہ جمع کر کے خزانچی کے پاس جمع کر دیا جاتا ہے، اس انجمن کے چند بر مخصوص عہدوں پر بعد انتخاب ممتاز کئے گئے ہیں، مثلاً صدر ناظم، خزانچی، سفیر، یہ ممتاز اصحاب مسجد کی خدمت بلا معاوضہ کرتے ہیں، چونکہ ان کی رہائش…
جواب
(۱) یہ جمع شدہ مال وقف نہیں۔ (۲) اگر چندہ دینے والوں کی اجازت ہے اور اس چندہ کا مصرف یہ بھی ہے تو یہ مٹھائی و غیره تقسیم کرنا شرعاً درست ہے ورنہ نہیں۔ (۳) اگر چندہ دینے والوں کی طرف سے اس مٹھائی کو کھانے کے لئے چندہ دہندہ ہونا شرط نہیں کیا گیا، بلکہ ان کی طرف سے نہ چندہ دینے والوں کو بھی اجازت ہے، تو ان کو کھانا بھی جائز ہے۔ (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔