الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد ومدرسہ کے لئے مشترک چندہ سے مسجد کی توسیع اور مدرسہ کے لئے دوکان بنانا

سوال

مسجد سے ملحق ایک جگہ نئے مدرسہ کی تعمیر کے لئے چندہ کر کے مشترک پیسہ سے خریدی گئی، اور ضرورت کے مطابق مسجد میں اضافہ کر دیا گیا، اور چار دوکانیں بنوائی گئیں، دوکانوں کے کرایہ کی آمدنی سے لاگت وصول ہو کر مسجد کے حساب میں قریب قریب پوری جمع ہو چکی ہے، مدرسہ کی تعمیر کا سلسلہ آیا تو چاروں دوکانیں مدرسہ کی ملکیت مان کر اوپر مدرسہ کی تعمیر کرادی گئی جو کہ دوکانیں اور مدرسہ کی عمارت مسجد کے ایک سائڈ میں واقع ہے، مسجد اور مدرسہ ایک ہی بنایا گیا ہے، ایک مسجد کے خرچہ سے فاضل آمدنی مدرسہ میں لگائی جاسکتی ہے، یا نہیں؟

جواب

جبکہ تعمیر مدرسہ اور توسیع مسجد کے لئے مشترک چندہ کیا گیا اور اس مشترک رقم سے زمین خریدی گئی، اور حسب ضرورت مسجد میں اضافہ کر لیا گیا، اور ایک جانب میں دوکانیں بنوائی گئیں، تو جس طرح مسجد میں جس قدر اضافہ کیا گیا، وہ زمین مخصوص طور پر مسجد کی ہوگئی، بلکہ مسجد بن گئی، اس میں کوئی دوسرا کام مستقل کرنا مثلاً مدرسہ بنانا صحیح اور درست نہیں ہے، اسی طرح اگر ارباب مدرسہ کے نزدیک…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو