الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا خرچ ذاتی پیسے سے ہو یا چندہ سے

سوال

(۱) میں ضلع بلند شہر میں رہتا ہوں اس کے ایک محلہ میں مسجد شیشہ والی موجود ہے، جس کی تعمیر اپنی معرفت شیخ خیراتی صاحب نے اپنے آباء واجداد والی زمین میں اپنے ذاتی پیسہ سے کرائی تھی، اور تاحیات برابر مسجد مذکورہ کا کل اہتمام انتظام مرمت وغیرہ اپنے ہی ذاتی پیسہ سے کرتے رہے، اس مسجد میں کبھی کسی کا چندہ کا پیسہ نہ شیخ خیراتی صاحب نے لگایا، ان کی وفات پر ان کی تجهیز وتکفین بھی اسی مسجد کے ایک حصہ میں ہوئی، جہاں ان کی تولیت تک ان کا قیام رہا تھا، بعد وفات شیخ خیراتی صاحب مرحوم ان کی اولاد در اولاد مسجد کی نگہداشت، مرمت…

جواب

جبکہ بانی مسجد کی اولاد اپنے ذاتی پیسہ سے مسجد کی ضروریات پوری کرتی اور انتظام درست رکھتی ہے، اور کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہے، تو دوسرے لوگوں کو دخل دینے اور انتظام سنبھالنے اور چندہ کر کے تعمیر وغیرہ وہاں بنانے کا حق نہیں، ان لوگوں کا یہ اقدام غلط ہے، نہ کسی اور تصرف کا حق ہے، اگر کوئی انتظامی شکایت ہو تو متولی و منتظم سے کہہ کے اسکا انتظام کرالیں، ہاں ان کے پاس پیسہ نہ ہو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو