چندہ مسجد کا حکم
سوال
زید نے کچھ روپیہ اپنے پاس سے اور کچھ چندہ سے جمع کیا مسجد کے حصہ کو بڑھانے کے واسطے مگر وہ روپیہ ابھی تک کسی خرچ میں نہیں آیا تھا کہ زید کا انتقال ہو گیا، اب وہ حصہ داران اس شخص سے جس کے قبضہ میں وہ روپیہ سے لیکر مہتم مسجد کو ادا کر دیں تا کہ وہ مسجد میں لگا دیں،اگر وہ روپیہ دینے سے انکار کرے تو اس شخص کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
کسی شخص کو وہ روپیہ خود رکھنا جائز نہیں، اگر زید نے اس کے خرچ کرنے کے متعلق اس شخص کو وصیت کی ہے تب تو مہتم اور اہل محلہ کے مشورہ کے موافق مسجد میں صرف کر دے، ورنہ مہتمم مسجد کو دیدے یا جن سے زید نے بطور چندہ وصول کیا ہے (انکو دیدے) خود رکھنے اور اپنے خرچ میں لانے سے یہ شخص خائن اور غاصب ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔