الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان خانہ کے لئے چندہ کیا گیا اس سے مسافر خانہ بنانا

سوال

ہمارے گاؤں کے دو آدمیوں نے مسجد میں اذان خانہ بنوایا ہے، اس غرض سے باہر دیہات میں جا کر رقم چندہ جمع کیا ہے، اور اس رقم کو اہل کار اور پینچ لوگوں نے قبضہ میں لیکر باہر دیہات خانہ نہ مسجد کا اذان خانه تو در کنار مسجد کے کسی بھی کام میں نہ لاتے ہوئے، مسافرخانہ وغیرہ کی درستی میں صرف کر دیا جسکی وجہ سے جن صاحبوں نے چندہ جمع کیا ہے وہ بہت ناراض ہیں، اور ہر وقت کہتے ہیں اہل کار پنچوں سے کہ ہماری رقم جو خرچ کر دی واپس کر دو، ہم ایک وضو خانہ بنانا چاہتے ہیں مگر پنچ کہتے ہیں کہ مسجد اور مسافر خانہ ایک ہی ہے، مسجد میں خرچ…

جواب

جب اذان خانہ بنوانے کے لئے چندہ جمع کیا گیا ہے، اور چندہ دینے والوں نے یہ کہہ کر چندہ دیا تو پنچ لوگوں کے لئے اس کا کسی دوسرے کام میں خرچ کرنا جائز نہیں، ان کے ذمہ ضمان واجب ہے، جو لوگ اپنا چندہ واپس مانگ رہے ہیں ان کو واپس مانگنے کا حق ہے، اور پنچ لوگوں کے ذمہ اسکا واپس کرنا ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو