جبراً چندہ لینا
سوال
محرر تھانہ کہتا ہے کہ میں مسجد شریف کے لئے زمینداروں سے چندہ کرونگا کیونکہ لوگ ایسے نیک کام میں امداد بالکل نہیں دیتے، اس لئے میں ان سے کہونگا کہ مسجد کے لئے ضرور چندہ دو، بہر حال وصول کرونگا، کار خیر کے لئے میرا ذاتی نہیں ہے، اس پر محرر صاحب سے کہا گیا کہ جو شخص چندہ خوشی سے دے ان سے یہ سہولت لیا جائے، اس پر انہوں نے فرمایا جس طرح دیں مسجد کے لئے ہے، ضرور کچھ نہ کچھ لونگا، اس کے متعلق کیا حکم ہے، اسکے متعلق وہی قرضہ والی صورت مسطوره بالا لیجائے تو درست ہے یا نہیں جواب سے جلدی مطلع فرماویں، مسجد شریف کا کام شروع…
جواب
جبراً چندہ وصول کرنا نا جائز ہے جو اپنی خوشی سے دے اس سے لے لیا جائے جو نہ دے اس پر جبر کرنا گنہ ہے اور ایسے مال کا مسجد میں لگانا بھی نا جائز ہے ”لان الله تبارك وتعالى لا يقبل الا الطيب فیكره تلويث بيته بما لا يقبله اھ شرنبلالیه اھ شامی، ص ۶۸۸/جا جبراً تو لینا جائز ہی نہیں کہ قرض لیکر دے یا کسی اور طرح جس سے جس قدر روپیہ لیا ہے اس کا واپس کرنا ضروری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔