الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جتنی زمین خریدی اس سے زائد پر مکان بنالیا

سوال

(۱) یس نے مسجد کی زمین مکان بنانے کیلئے کرایہ پر لی اور حرکت یہ کی کہ جتنی زمین لی تھی اس سے زیادہ زمین پر مکان بنالیا، یہ حرکت یس کی جائز تھی یا نہیں؟ (۲) یس یہ مکان انجمن اسلامیہ والوں کو بیچ کر پاکستان چلا گیا انجمن اسلامیہ انٹر کالج والے یہ کہہ رہے ہیں کہ جو اس مکان کے باہر (مسجد کی) زمین ہے وہ بھی ہماری ہے اس سلسلہ میں دو باتیں معلوم کرنی ہیں، (الف) مکاں کے اندر جو زائد زمین ہے انجمن اسلامیہ والوں کو اس زائد زمین کو مسجد کو دینا چاہئے یا نہیں؟ (ب)

جواب

(۱) ناجائز تھی۔ (۲) اگر واقعہ اسی طرح ہے تو (الف) وہ زائد زمین مسجد کو دے دیں یا اس کا بھی کرا یہ تجویز کر لیں جیسے کہ یس نے مسجد سے کرایہ پر لی ہے (ب) اس پر قبضہ کا کوئی حق نہیں یہ غصب ہوگا جو کبیرہ گناہ ہے اور اس کا واگزار کرانا ضروری ہوگا۔ (۳) مسجد کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے بلا شبہ فاسق اور سخت گنہگار ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو