جو چندہ بر آمدہ مسجد کے لئے کیا گیا ہے اس سے کرایہ کی دوکانیں بنانا
سوال
میرے چچا مولانا منظور احمد خان نے محلہ کی مسجد جس کے وہ متولی بھی تھے، مسجد کے برآمدے کی ضرورت محسوس کی، اکثر رمضان میں نمازیوں کی زیادتی کی وجہ سے صحن مسجد تک نمازی آ جاتے تھے، اور موسم برسات و سرما میں بڑی دقت محسوس ہوتی تھی، جس کو اکثر عارضی شامیانہ سے رفع کیا جاتا تھا، انہوں نے اس تکلیف کو دور کرنے کیلئے اپنے ایک شاگرد کو افریقہ لکھا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں برآمدے کی سخت ضرورت ہے، اور اہل محلہ اتنے مخیر نہیں آپ وہاں سے کچھ چندہ اس مد میں فراہم کر کے بھجوا دو، چنانچہ وہاں سے جواب میں یہ آیا کہ حضرت اس برآمدے…
جواب
جس مقصد کے لئے چندہ لیا گیا اور دینے والوں نے دیا ہے، اسی مقصد میں وہ روپیہ خرچ کیا جاوے، دوسرے مقصد میں اس کے خرچ کرنے کی اجازت نہیں، لہذا اس روپیہ سے برآمدہ ہی بنوایا جائے، اور دوکان یا کسی اور کام میں یہ روپیہ خرچ کرنا درست نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔