الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد ومدرسہ کے نام سے مشتر کہ چندہ کرنا

سوال

ایک بستی والے مسجد ومدرسہ کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کا چندہ ایک جگہ کرنا چاہتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اگر چندہ یکجا کر لیا جائے اور چندہ دہندہ سے کہہ دیا جائے کہ ہم مسجد ومدرسہ دونوں تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور چندہ دینے والا یہ کہ دے کہ دونوں میں سے کسی میں استعمال کر لو تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ یا دونوں کا علیحدہ علیحدہ چندہ ہونا چاہئے؟

جواب

مسجد اور مدرسہ دونوں کے لئے مشترکہ چندہ کرنا درست ہے اور جب یہ اعلان کر دیا کہ دونوں کی تعمیر ہوگی اور دونوں کیلئے لوگ چندہ دے رہے ہیں تو پھر کیا تردد ہے، علیحدہ علیحدہ کرنا چاہے، تو اس کی بھی اجازت ہے، پھر جو چندہ جس کے لئے وصول کیا ہے، اس کو اسی میں صرف کرنا چاہئے، ایک کا چندہ دوسرے مصرف میں صرف نہ کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو