مسجد کی زمین میں کرائے دار کے لئے دوکان بنانا
سوال
ایک جگہ مسجد کی ہے اس میں کوئی دوسرا شخص دوکان بنالے اور مسجد کو سالا نہ کچھ مقرر کر کے دینا چاہے بعد وصولی رقم دوکان مسجد کی ہو جائے گئی یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
اسکی صورت اس طرح کر لی جائے کہ مسجد کی زمین اس شخص کو کرایہ پر دیدی جائے، اور کرایہ پیشگی لے کر اس سے دوکان بنوادی جائے، جب دوکان مکمل ہو جائے تو وہ کرایہ دار کے حوالہ کر دی جائے، اس طرح وہ دوکان مسجد کی ہوگی، اور کرایہ دار کو اتنی مدت استعمال کا حق ہوگا، جس کا کرایہ وہ پیشگی ادا کر چکا ہے، یہ بھی درست ہے، کہ خالی زمین دیدی جائے، جس کا کرایہ وہ مسجد کو ادا کرتا رہے اور کرایہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔