الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد پر بورڈ لگا کر کرایہ وصول کرنا

سوال

اس سوال کے ہمراہ مسجد کا فوٹو مرسل ہے یہ مسجد عام شاہراہ پر ہے، اس مسجد کے اوپر دو بورڈ بغرض اشتہار ریڈیو لگائے گئے ہیں، جس سے مسجد کی کچھ آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے، حالانکہ مسجد کا متولی ہے، اور مسجد ایک کاروباری علاقہ میں واقع ہے، مسلم تاجران کافی رقم دینے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ (۲)

جواب

مسجد کی ضرورت پوری کرنے کے لئے دوکانیں تو بنائی جاسکتی ہیں لیکن خود مسجد کو کرایہ پر چلانا اور اس سے روپیہ کمانا جائز نہیں، جو کچھ وجوہ اعتراض وہاں کے مسلمانوں نے پیش کی ہیں، وہ بھی اہم ہیں، ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس لئے مسجد کے منتظم صاحب کو چاہئے کہ وہ ہرگز ایسا معاملہ نہ کریں، اگر بورڈ بغرض اشتہار لگا دیا ہے، تو اس کو اتار کر معاملہ ختم کر دیں، خاص کر ایسی حالت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو