مسجد کی دوکان کرایہ پر ہے، کرایہ کا اضافہ نہ کرایا جائے تو کیا حکم ہے
سوال
(۱) ایک دوکان زیر مسجد بغرض مصارف مسجد ۱۹۵۳ء میں مسجد کے ساتھ ہی ساتھ تعمیر کر دی گئی یہ دوکان ایک مسلمان کو ۴۰ ماہواری کرایہ پر دی گئی اس سال کی تعمیرات پر اور اس سال کے بعد بھی سال رواں ۱۱ء کی تعمیرات پر بھارت کا قانون کنٹرول لاگو نہیں ہے، یعنی کرایہ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اگر اضافہ پر کرایہ دار راضی نہ ہو تو بے دخل ہو سکتا ہے، مگر ابھی تک کمیٹی انتظامیہ مسجد نے کوئی کارروائی اضافہ کرایہ یا بیدخلی کی نہیں کی، صرف زبانی کرایہ دار سے بار بار اضافہ کیلئے کہا گیا انہوں نے ہر مرتبہ صاف انکار کر دیا، اب اخبارات سے…
جواب
(۱) جبکہ دوکان کی حیثیت ایسی ہے کہ اس کو کرایہ دار زیادہ کرایہ پر لینے کے لئے آمادہ ہیں جس میں یقیناً مسجد اور وقف کا نفع ہے، اور قانوناً کوئی روکاوٹ بھی نہیں اور موجودہ کرایہ پر دینے اور موجودہ کرایہ دار سے خالی کرانے میں کوئی مضرت و مفسدہ بھی نہیں تو اس سے خالی نہ کرانا اور زیادہ پر نہ دینا حق تلفی ہے، ذمہ داران ممبران و متولی سے مواخذہ ہوگا اگر آئندہ کوئی ایسا قانون بن گیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔