حوض کی جگہ کرایہ کیلئے دوکان بنانا
سوال
یہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہے، جس میں وضو کے لئے حوض بھی ہے، اس مسجد کی آمدنی کچھ نہیں ہے، متولی صاحب کل مصارف اپنی جیب سے برداشت کرتے ہیں اب ان کا خیال ہے کہ حوض کی جگہ ٹونٹی لگوائیں اور حوض کو ختم کر کے ایک عمارت بنوادیں تاکہ متولی صاحب کے بعد بھی اس کے کرایہ سے مسجد کی ضروریات پوری ہوتی رہیں، اور کوئی دشواری پیش نہ آئے، کیا شرعاً اس کا حق متولی کو حاصل ہے یا نہیں؟
جواب
اگر نمازیوں کو وضو کی تنگی نہ ہو اور جو کام حوض سے لیا جاتا ہے وہ سہولت سے ٹونٹی سے حاصل ہو، نیز عمارت بنانے سے مسجد کی ہوا اور روشنی میں رکاوٹ نہ ہو تو مسجد کے مفاد کے پیش نظر وہاں کے سمجھدار آدمیوں کے مشورہ سے ایسا کرنا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔