الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا گرم پانی گھر لیجانا

سوال

ایک شخص اہل محلہ سے کچھ چندہ لیکر اور اپنا زر کثیر خرچ کر کے ایک مسجد تعمیر کرے اور پھر مسجد کی مخصوص ضروریات کیلئے یعنی فقط بوریئے تیل لوٹے اور مرمت مسجد کے لئے مکان اور دوکان وقف کر دی ہے اس کی آمدنی ہمیشہ مذکورہ ضروریات مسجد پر خرچ ہوتی ہے اہل محلہ تقاضہ کرتے ہیں کہ اس کی آمدنی کو گرم پانی کے مصارف پر خرچ کیا جائے، اور صاحب وقف کہتا ہے کہ مذکورہ مخصوص ضروریات کے لئے وقف کیا ہے اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

جب واقف گرم پانی کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ صراحة منع کرتا ہے، تو شرط الواقف کنص الشارع کے ماتحت پانی گرم کرنے میں آمدنی کو خرچ کرنا درست نہیں، ہاں اگر واقف اجازت دیدے تو جائز ہے جو لوگ اپنے دام خرچ کر کے نمازیوں کے لئے پانی گرم کرتے ہیں، ان کو اختیار ہے کہ وہ کسی بے نمازی کو استعمال نہ کرنے دیں، نیز کسی کو اپنے گھر نہ لیجانے دیں، جو شخص بلا ان کی اجازت اپنے گھر لیجائے گا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو