الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے ٹانکہ سے محلّہ والوں کا پانی لے جانا

سوال

مسجد میں ٹانکہ ہے اس میں نل لگے ہیں، شہر سے بذریعہ نل پانی ٹانکہ میں آتا ہے، پانی کا ٹیکس مسجد کمیٹی ادا کرتی ہے محلہ کے لوگ آ کر اپنی ضروریات کا پانی لے جاتے ہیں، وضو کرنے کی جگہ مسجد کے اندر ہے، اس جگہ پر باوضو مصلی حضرات پیر رکھ کر مسجد میں آتے ہیں، باہر کے بچے مسجد کے اندر نل سے پانی لے جاتے ہیں، باہر کی خراب مٹی مسجد میں بھرتی ہے، سوال یہ ہے کہ مسجد کے ٹانکے سے محلہ کے لوگ اپنی ضروریات کے لئے پانی لے جاسکتے ہیں، یا نہیں؟

جواب

یہ پانی کنویں کے پانی کی طرح نہیں ہے، کہ ہر شخص کو لینے کا اختیار ہو بلکہ یہ گھڑے میں رکھے ہوئے پانی کی طرح ہے کہ مالک نے اپنی ضرورت کیلئے گھڑے میں بھر رکھا ہے وہ اس پانی کا مالک ہو گیا، کسی شخص کو بغیر اس کی اجازت کے لینے کا حق نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو