شیعہ اور پھرائیوں اور غیر مسلم کا روپیہ مسجد میں
سوال
سائل کا بیان ہے کہ مسجد کی تعمیر میں شیعہ حضرات کا اور ان پھرائیوں کا جن کے گھر کے آدمی مانگنے والے ایک دو ہوں اور محنت مزدوری کرنے والے زیادہ ہوں پیسہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اور اہل ہنود کا روپیہ بھی مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح اوپر لکھے گئے لوگوں کے گھروں کے پیسے مسجد کی لکڑیوں میں جو پانی گرم کرنے کیلئے فراہم کی جاتی ہیں، اور رمضان المبارک میں جو ختم قرآن کے نام سے وصول کئے جاتے ہیں، جن سے مؤذن اور امام مسجد کی خدمت کی جاتی ہے، لئے جاسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
جو شخص بھی مسلم شیعہ یاسنی روپیہ مسجد کی تعمیر یا دیگر ضروریات سوخته و ختم قرآن شریف و تنخواه امام یا مؤذن کیلئے بخوشی دے اور اس کو ثواب سمجھتا ہو اس کا روپیہ لینا درست ہے۔ بشرطیکہ حلال روپیہ دے یا غالب روپیہ اس کا حلال ہو اس میں سے دے اور یہ اندیشہ نہ ہو کہ یہ بعد میں احسان جتائے گا، یا ملکیت کا دعویٰ کرے گا، یا یہ کہے گا کہ ہم نے تمہاری مسجد میں چندہ دیا تھا ہمارے مندر یا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔