مسجد میں اہل ہنود کا روپیہ
سوال
عمارت مسجد میں اہل ہنود یا اہل تشیع کا روپیہ خرچ کر سکتے ہیں یا کہ نہیں، اگر خرچ کرنا جائز ہے تو اس آیت کا کیا مطلب ہوگا ”وما كان للمشركين ان يعمروا مساجد الله شاهدين على انفسهم بالكفر الآية، اگر یہ نا جائز ہے تو بیت اللہ شریف کی عمارت کی کیا توجیہہ ہوگی، جو زر مشرکین سے بنی تھی، اور عہد نبوی کے بعد تک قائم رہی؟
جواب
اگر ان کے نزدیک مسجد بنانا عبادت و ثواب ہے اور کوئی دوسرا مانع بھی نہیں تو ان کا روپیہ تعمیر مسجد میں لگا نا شرعاً درست ہے کہ آیت میں عمارت سے مراد مسجد کی آبادی، تولیت، انتظام ہے، جیسے کہ پہلے سے بیت اللہ پر مشرکین کا تسلط و قبضہ تھا جس کا ظہور خاص طور پر ایام حج میں ہوتا تھا، کعبہ شریف کی چابی بھی انہیں لوگوں کے پاس رہتی تھی، جس کو چاہتے داخل ہونے دیتے جس کو چاہتے روک دیتے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔