الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مسلم کا مسجد کے لئے وقف کرنا

سوال

(الف) کسی غیر مسلم نے اپنی زمین کے قطعات مکانوں کے لئے بیچنا چاہی، مسلمانوں نے اپنی حسب حیثیت ایک قطعہ خرید لیا اور کہا کہ اس نئی آبادی میں مسجد نہیں ہے، ایک قطعہ زمین مسجد کے لئے دیا جائے، تو ہم کو سہولت ہوتی ہے، اور اس کو صاحب زمین نے مان لیا، اور مطلوبه قطعه بلا قیمت دیدیا یعنی رجسٹری کر دی، اب سوال یہ ہے کہ غیر مسلم کی وقف کرده زمین پر مسجد بنانا یا غیر مسلموں کے چندہ سے مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟ بعض حضرات ناجائز کہتے ہیں اور بعض جائز اور بعض مسجد کے حصار یا بیرونی کام میں خرچ کرنے کے قائل ہیں۔ (ب)

جواب

اگر اس غیر مسلم کے نزدیک مسجد بنانا نیک کام ہے اس لئے اس نے چندہ دیا یا زمین مسجد کیلئے وقف کی ہے تو درست ہے، وہاں مسجد بنائی جائے، اور وہ پیسہ بھی مسجد میں لگا دیا جائے شامی میں وقف غیر مسلم کی بحث موجود ہے، جس کا حاصل وہی ہے، جو یہاں لکھا گیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو