مسجد کے لئے غیر مسلم سے چندہ لینا
سوال
ہم ایسی جگہ پر رہتے ہیں جہاں پر مسلمان پورے شہر میں ۱۲ ر ہیں، یہاں پر سے پہلے سے مسجد ہے اور وہ ویران ہے یعنی گری پڑی ہے، جس کی مرمت بہت ضروری ہے، اور ہم لوگوں میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اس میں خاص رقم لگا کر مرمت کریں، تو ہم رقم شہر میں ہندوؤں سے چندہ لے سکتے ہیں، اور زکوۃ فطرہ کی رقم لگا سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
ایسی مسجد تعمیر کرنے کیلئے ہندوؤں سے چندہ نہ مانگیں کہ بڑی بے غیرتی ہے، زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر کا پیسہ بھی مسجد کی تعمیر میں صرف نہ کریں، کہ وہ غریبوں کا حق ہے، بہت معمولی سی مسجد چھپر ڈال کر ذاتی پیسہ سے بنالیں، اللہ تعالیٰ اس کے پختہ کر دینے کا بھی انتظام فرمادے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔