کافر بے دین کا روپیہ جدید مسجد میں
سوال
کافر بے دین کا روپیہ مدد لے کر نئی مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اور بے دین مشرک کا روپیہ امداد لے کر مدرسہ میں لگانا یا مدرسہ تیار کرنا اور طلباء کے کھانے کے خرچ میں لگانا درست ہے یا نہیں؟
جواب
بے دین (کافر و مشرک) سے مسجد یا دینی مدرسہ کے لئے مدد طلب کرنا بے محل ہے ہرگز طلب نہ کریں، اگر وہ خود مدد کرے اور اس مدد سے کسی غلط اثر کا اندیشہ نہ ہو تو قبول کر لینا درست ہے، غلط اثر یہ کہ مثلاً وہ ملکیت کا دعویٰ کرے یا احسان جتائے یا اپنے مندر وغیرہ کیلئے چندہ طلب کرے یا ووٹ وغیرہ کا مطالبہ کرے ایسی حالت میں مدد قبول نہ کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔