الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مسلم کا مسجد کی تعمیر کے لئے روپیہ دینا

سوال

ایک دیہات میں مسلمانوں کے پچاس مکان ہیں، لیکن سب غریب اور تنگدست ہیں بفضل خدا ایک مسجد بھی یہاں پر ہے، مسجد کے صحن میں جگہ خالی ہے، مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں ہے، اور نہ کوئی جگہ ہے کہ وہاں یہ تعلیم حاصل کر سکیں، اور قرآن مجید کی تعلیم سیکھیں اور اس دیہات میں ایک ہندو پارسی رہتا ہے، وہ مسلمانوں سے جمعہ کے روز کہتا ہے کہ اگر تم لوگ مجھے اجازت دو تو میں اس مسجد والی جگہ کو اپنے پورے خرچ سے تعمیر کر دیتا ہوں خواہ اس کے بنانے میں مجھے دو ہزار روپیہ بھی خرچ آئیں تو میں آسانی سے خرچ کر سکتا…

جواب

وہ پارسی وہ سامان اور روپیہ کسی مسلمان کو دیدے اور مالک بنادے پھر وہ مسلمان اس سے تعلیم کا کمرہ اور مسجد کے منار بنادے مسجد کے صحن میں جو جگہ خالی ہے یعنی وہ جگہ نماز کے لئے نہیں ہے اگر وہ مسجد کی ملک ہے تو اس جگہ کا کرایہ مسجد کے لئے تجویز کر دیا جائے، اس طرح کہ جگہ مسجد کی رہے اور اس پر کمرہ مدرسہ کا رہے اگر وہ مسجد کی ملک نہیں تو کرایہ تجویز کرنے کی ضرورت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو