مہر کی رقم مسجد میں دیگر شوہر کے حصہ کی واپسی
سوال
زید کی شادی ہندہ سے ہوئی ہندہ زید کے یہاں متعدد بار آگئی مگر اولاد نہیں ہوئی، اور انتقال کر گئی زید نے ہندہ کے باپ (اپنے خسر کو ان کے مانگنے پر پورا مہر دے دیا اور خسر زید (ہندہ کے باپ) نے کل روپیہ فوراً مسجد کو دیدیا، اور اب پتہ چل رہا ہے کہ شوہر کا بھی حق ہوتا ہے، پس زید یہ سنکر اپنے حصے کا روپیہ واپس مانگ رہا ہے، تو آیا شوہر کا حق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر ہوتا ہے تو جو مہر کا روپیہ زید نے ہندہ کے باپ کو دیا تھا اس نے کل مسجد کو دیدیا تھا تو زید کو روپیہ اب کون دے گا، آیا خسر (ہندہ کے باپ) دے گا؟
جواب
ہندہ کے مہر سے نصف کا زید مستحق ہے، زید کے خسر کو لازم تھا کہ نصف زید کے پاس رہنے دیتا، اب جبکہ پورا روپیہ مسجد میں دے چکا ہے تو یہ بھی حق ہے، کہ نصف واپس لیلے وہ اس طرح کہ خسر اہل مسجد سے نصف واپس لیکر زید کو دیدے، اگر زید نہ لے بلکہ وہ اپنی طرف سے محسوب کرلے تو وہ بھی مستحسن ہے اجر ہوگا، ہندہ کا جو سامان جہیز وغیرہ تھا اس میں بھی زید نصف کا مستحق ہے، اگر اپنے خسر سے اس طرح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔