قاضی صاحب کا مقدمہ کے فریقین سے جو شخص جیت جائے اس سے روپیہ لینا اور پھر مسجد میں دینا
سوال
یہاں قاضی صاحب چندہ وصول کر کے جامع مسجد تعمیر کرا رہے ہیں، ان کی قضیات میں اگر کوئی مقدمہ آتا ہے، شرعی مقدمہ یا غیر شرعی، قاضی صاحب اس شرط پر مقدمہ لیتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے کوئی بھی مقدمہ جیت گیا تو مسجد کی تعمیر میں اتنا روپیہ دینا ہوگا، پھر آگے رشوت وغیرہ سے دلا کر مقدمہ کا فیصلہ کرا دیتے ہیں اور فریق سے روپیہ وصول کر لیتے ہیں تو ایسا روپیہ مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
قاضی صاحب کا یہ شرط لگانا غلط اور نا جائز ہے، پھر رشوت لیکر کسی کے حق میں مقدمہ فیصلہ کرنا سخت وبال کا باعث ہے۔ یہ جہنم کا راستہ ہے، ایسا روپیہ تعمیر مسجد میں ہرگز صرف نہ کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔