بیعانہ مسجد میں لگانا
سوال
ایک شخص نے ایک مسجد کے متولی سے ایک مکان کا سودا کیا جو کہ مسجد کی ملکیت ہے اور کچھ روپیہ پیشگی بطور بیعانہ متولی کو دیا، ازاں بعد اس شخص کے پاس روپیہ کا انتظام نہ ہو سکا اور متولی مسجد نے وہ مکان دوسرے کو فروخت کر دیا، اب متولی مسجد اس شخص کی وعدہ خلافی کے باعث وہ روپیہ اس کو نہیں دیتا تو وہ کیا روپیہ مسجد کے مصرف میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وعدہ خلافی خریدار کے باعث مشترین بیعانہ واپس نہیں دیتے تو کیا ان کو رکھنا جائز ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب
اگر کسی وجہ سے بیع کا معاملہ بائع اور مشتری پورا نہ کرسکیں تو بیعانہ کا واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، اور اسکا رکھ لینا ہرگز جائز نہیں ہے، لہذا متولی کے ذمہ لازم ہے کہ وہ روپیہ اس شخص کو واپس کر دے ایسے روپیہ کو مسجد میں لگانا بھی جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔