الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلیک سے خریدے ہوئے سیمنٹ کا مسجد کے لئے استعمال

سوال

زید ایک مسجد کی تعمیر کرانا چاہتا ہے، سیمنٹ کی بوریاں بلیک اس کو بکفایت مل رہی ہیں، یعنی ٹھیکہ دار کو حکومت کی طرف سے حسب ضرورت کافی مقدار میں سیمنٹ ملتی ہے، اور اس کو تاکید ہے کہ چار ایک کے حساب سے بالو اور سیمنٹ کی آمیزش کی جائے، مگر ٹھیکہ دار مثلاً ایک بوری سیمنٹ اور ساٹھ بوری بالو ملاتا ہے، اس طرح سیمنٹ بہت بچا لیتا ہے، اور سستے نرخ سے بیچ لیتا ہے، وہ سیمنٹ خرید کر مسجد وغیرہ میں استعمال کرنا جائز ہے یا نا جائز؟

جواب

تحریر سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹھیکہ دار مالک نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے وکیل واجیر ہے، فروخت کرنے کے لئے وہ فریب و خیانت کر کے سیمنٹ بچاتا ہے، وہ مالک نہیں ہو جاتا، ایسا سیمنٹ مسجد میں نہ لگایا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو