الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ايضاً / چوری کا سیمنٹ مسجد میں لگانا

سوال

سرکاری کام کرنے والے ٹھیکیدار جو سرکاری چوری سے سیمنٹ فروخت کرتے ہیں، اس کو مسجد کے غسل خانوں یا نالی وغیرہ یا مسجد کی ذاتی عمارت میں لگا سکتے ہیں، یا نہیں؟ شکل اس کی یہ ہوتی ہے کہ سرکاری انجینئر بل منظور کرتے ہیں کہ اس عمارت میں مثلاً دو سو کٹہ سیمنٹ کے لگ جائیں گے، اسی حساب سے ٹھکیدار کا لائسنس منظور کرتے ہیں، مگر اس کام کو ٹھیکیدار پورا کر کے سیمنٹ بچا لیتے ہیں، اور اس سیمنٹ کو ٹھیکیدار سرکاری چوری سے فروخت کرتے ہیں، اس شکل میں یہ سیمنٹ کیا ہم خرید کر مسجد کے غسل خانوں یا مدرسہ کی عمارت میں لگواسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

اگر تحقیق سے ثابت ہو جائے کہ یہ سیمنٹ چوری کا ہے تو اس کا خریدنا اور مسجد کی عمارت یا اس کے غسل خانہ وغیرہ میں لگانا جائز نہیں، چور کی اس پر ملکیت بھی حاصل نہیں، پھر اس سے خریدنا ہی بے محل ہے، اللہ تعالیٰ کے گھر میں پاک مال لگایا جائے، وہ پاک ہی کو قبول کرتا ہے، نا پاک (حرام) مال نہ لگایا جائے۔ کما فی رد المحتار۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو