غیر مسلم کا روپیہ تعمیر مسجد میں (اور مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ الآيَةَ کا مطلب)
سوال
معروض اینکہ مسئلہ مذکورہ ذیل میں مجھے اختلاف آراء کی بناء پر شک واقع ہو گیا ہے، اس لئے مہربانی فرما کر فریقین کے مدلل اقوال نقل فرما کر طریق تطبیق کو فرماتے ہوئے قول راجح سے مطلع فرمائیں، اور حوالجات ضرور نقل فرماویں، تحریر مفصل ہوتا کہ اشکال زائل ہو جائے؟ مسئلہ: کیا مساجد کی تعمیر جدید یا مرمت میں ہنود کا اور غیر مسلم اقوام کا روپیہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
الجواب: اس میں کچھ مضائقہ نہیں، مسجد ان لوگوں کی بنائی ہوئی بحکم مسجد ہے، اگر یہ لوگ مسجد میں روپیہ لگا نا ثواب جانتے ہیں تو ان کا وقف درست ہے، ایسے ہی اوپر کی عمارت میں شریک ہوں تو بھی درست ہے، اس فتویٰ اور ملاجیون کی تفسیر آیت ”ما كان للمشرکین کے جو مخالف معلوم ہوتا ہے، اس کو واضح فرما کر جواب شافی مفصل مدلل تحریر فرما کر مشکور فرمادیں؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔