توسیع مسجد کیلئے حکومت سے امداد
سوال
ایک مقامی مسجد (پاکستانی مسجد کی تعمیر جدید مسلمانوں کے عوامی چندہ سے مکمل ہوئی تھی، مگر اب نمازیوں کی کثرت اور روز افزوں زیادتی کی وجہ سے مسجد کی موجودہ عمارت بالکل نا کافی ہے اور مسجد کی تنگی نمازیوں کے لئے سخت تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے اس لئے مسجد مذکورہ کی مجلس انتظامیہ نے یہ طے کیا کہ مسجد کو وسیع کیا جائے، کیونکہ مسجد ہر چار طرف سے عوامی شاہراہوں اور شہری عمارتوں میں گھری ہوئی ہے، اس لئے کسی طرف سے بھی وسیع کرنے کی گنجائش نہیں ہے، بنابریں یہ طے ہوا کہ پختہ چھت ڈال کر اوپر کی طرف ایک اور منزل تعمیر کی جائے،…
جواب
سرکار نے جب جائز اور نا جائز آمدنی کو مخلوط کر دیا اور اس مخلوط آمدنی سے مسجد کے لئے رقم دی تو اس کو حرام نہیں کہا جائیگا، اس کو لینا اور مسجد میں صرف کرنا شرعاً درست ہے۔ چونکہ خلط استہلاک ہے، جب حکومت نے جائز و نا جائز کو مخلوط کر دیا، اور اس پر قبضہ کر لیا تو حکومت اسکی مالک ہو گئی، اور حکومت نے جن سے غلط طریقہ پر لیا ہے، ان کو ضمان دینا لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔