فاحشہ کی دی ہوئی چیز کا مسجد میں استعمال
سوال
(۱) ایک بازاری طوائف عورت کا گذر اوقات و خورد و نوش حرام کی کمائی پر ہے، اور وہ عورت سوت کات کر یا چھالیاں کتر کر اس پیسہ سے مسجد میں صفیں یا لوٹے دیتی ہے، اور کمائی کھاتی ہے حرام کی اس کی صفیں لوٹے مسجد میں لینا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) ایک بازاری طوائف اپنی حرام کی کمائی سے مکان بنواتی ہے اس کے مرنے پر اس کا بھائی اس مکان کو فروخت کرتا ہے، اور کچھ روپیہ ایک ہندو سے قرض حسنہ لے کر صحن مسجد پر سائبان ڈالتا ہے، اور ہندو کو روپیہ ادا کرتا ہے، اس حرام کمائی کے مکان کو فروخت کر کے تو اسکا سائبان مسجد میں ڈالنا جائز ہے یا…
جواب
(۱) ایسے لوٹوں اور صفوں کا استعمال مسجد میں درست ہے کیونکہ یہ عین حرام کی کمائی سے خرید کر نہیں دیئے۔ (۲) اس سائبان میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (۳) یہ بھی نمبر ا ر ر کی طرح درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔