الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سینما کی آمدنی مسجد اور مدرسہ میں خرچ کرنا

سوال

(۲) نیز مسجد یا مدرسہ میں سینما کی آمدنی خرچ کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص سینما ہاؤس مسجد یا مدرسہ کو ہبہ کرنا چاہے تو اسکو کرایہ پر دینا یا فروخت کر کے اسکی رقم مسجد یا مدرسہ میں لگانا درست ہے یا نہیں؟ اور حرام اور سود سے کمائی ہوئی رقم پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

سینما یا کوئی بھی نا جائز آمدنی کا مسجد یا مدرسہ میں خرچ کرنا درست نہیں، ایسی آمدنی کا تصدق ضروری ہے، غریب مسکین طلبہ ہی اس کے مصرف ہیں تنخواہ و تعمیر وغیرہ میں خرچ نہ کریں گے اگر سینما ہاؤس جو کہ جائز آمدنی سے بنایا گیا تھا اس کو مسجد یا مدرسہ میں دے تو اس کو خالی کرا کے جائز محل میں صرف کیا جائے (کرایہ پر دیا جائے یا فروخت کیا جائے) جس رقم (حرام کی ملک)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو