الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مال حرام سے مسجد و کنواں اور مکان کی تعمیر

سوال

زید افریقہ میں دوکان کرتا ہے، اور دوکان پر نا جائز چیزیں شراب خنزیر وغیرہ رکھتا ہے، اس نے کاروبار سے رقم جمع کر کے اپنے وطن کے قبرستان میں کنواں تعمیر کرایا ایک مسجد افریقہ میں تعمیر کرائی، ایک مکان تعمیر کرا کے اپنی قوم پنچایت کے نام کر دیا ہے، ان سب کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

زید کی دوکان میں کوئی چیز جائز بھی ہے یا تمام اشیاء خمر و خنزیر کی طرح حرام ہی ہیں اگر کوئی جائز چیز بھی ہے تب تو اس کی آمدنی حرام و حلال سے مرکب ہوئی، اور حرام حلال کے خلط سے آدمی تمام کا مالک ہو جاتا ہے، اگر چہ حرام کا ضمان اس کے ذمہ واجب ہوتا ہے، لہذا مسجد کنواں، مکان تینوں اشیاء کا استعمال شرعاً درست ہے اور جس قدر مال حرام طریقہ پر خمر و خنزیر وغیرہ حرام اشیاء سے حاصل کیا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو