مال حرام مسجد میں صرف کرنا
سوال
(۱) حیدر آباد سے ایک پرچہ بنام اطلاع“ نکلتا ہے جس میں ”پوچھئے اور سنئے کی سرخی کے تحت ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے جس میں پوری طاقت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حرام بطور چندہ کے مسجد و مدرسہ میں لے سکتے ہیں، اس میں شرعی کوئی قباحت نہیں، وہ مضمون دو قسط بنا کر آپ کی خدمت میں ارسال کروں گا، پہلی قسط اب روانہ کیا ہوں اور مختصر اقتباس بنا کر ارسال کیا ہوں، امید ہے کہ حضرت والا اپنی مصروفیتوں میں تھوڑا وقت ضرور بالضرور فارغ فرما کر جواب روانہ فرمائیں، تو عین کرم ہوگا، کیونکہ دکن کا اکثر حصہ مشائخ پرست اور بدعات کے…
جواب
اگر کسی وارث کو معلوم ہو کہ مورث کے پاس فلاں مال حرام ہے تو اسکو وراثہ لینا وارث کیلئے جائز نہیں بلکہ اصل مالک معلوم ہو تو اسے واپس کر دے ورنہ صدقہ کر دے، لا يحل اذا علم عين الغصب مثلاً وان لم يعلم مالكه فى البزازية اخذ مورثه رشوت او ظلماً ان علم ذلك بعينه لا يحل له اخذه والحاصل انه ان علم ارباب الاموال وجب رده عليهم والا فان علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه اھ رد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔