مال غیر طیب سے تعمیر مسجد
سوال
ایک شخص زمیندار جس آمدنی کی چار صورتیں ہیں (۱) کاشت زمین (۲) سوداگری (۳) رشوت (۴) سود آمدنی زیادہ سود کی ہے اس منجملہ آمدنی سے اس نے ایک مسجد بنوائی جس کی تعمیر کو آج چالیس سال ہو چکے ہیں بعض اشخاص اس میں نماز پڑھتے ہیں، بعض نہیں پڑھتے، آیا اس میں نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جن حضرات کے نزدیک ہندوستان دارالحرب ہے وہ کفار سے سود لینے کو جائز فرماتے ہیں، پس اگر سود کفار سے حاصل کیا ہوا ہے تو وہ ان علماء کے نزدیک درست ہے، اور اس سے بنائی ہوئی مسجد میں نماز شرعاً جائز، صحیح ہے اگر وہ سود محض مسلمان سے حاصل کیا ہے اور دوسری تمام آمدنی سے غالب ہے یا کفار مسلمین ہر دو سے حاصل کیا ہے اور مسلمانوں سے حاصل کیا ہوا زیادہ ہے غرض غلبہ نا جائز آمدنی کو ہے، اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔