الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جائز آمدنی سے چندہ / مخلوط آمدنی سے مسجد میں چندہ / ايضاً / چوری کے مال سے چندہ / شراب کی آمدنی سے چندہ / مخلوط آمدنی والے کا چندہ مسجد میں

سوال

ایک صاحب ہیں جن کی آمدنی جائز نہیں مگر آمدنی کے ذرائع ان کے پاس ایسے بھی ہیں جو بالکل حلال ہیں کیا ان سے چندہ کا روپیہ مدرسہ میں لیا جا سکتا ہے، بالخصوص جب کہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں اپنی پاک کمائی سے یہ چندہ دے رہا ہوں میں یہ پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ حرام آمدنی کو کار خیر میں، لگانا بہت بڑا گناہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں اس کا چندہ لیا جا سکتا ہے؟

جواب

ایسے شخص کا چندہ لینا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · اردو