مسجد میں تعلیم صبیان
سوال
مسجد کے اندر لڑکوں کو قرآن اور دینیات پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب، فتاوی دارالعلوم دیو بند جلد پنجم و ششم ص ۲۹۸/ فتوی ۸۷۹/۱۲۸۹ر جس کی بعینہ نقل منسلک ہے صاف ہے کہ اگر مسجد کے نجس کرنے کا گمان غالب ہے تو حرام ہے ورنہ مکروہ تنزیہی ہے۔ چونکہ صورت مسئولہ میں مسجد کے نجس کرنے کا گمان غالب نہیں ہے بلکہ یقین اور تجربہ ومشاہدہ عینی ہے، لہذا تفصیلی سوال قائم کر کے مفتی صاحب شہر جے پور راجستھان مقامی سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو ممدوح نے ضرورت کی حد تک مسجد میں پڑھانے کی اجازت فرمائی، نیز اس کے علاوہ دیگر…
جواب
مسجد میں دینی تعلیم دینے کی اجازت ہے جبکہ مسجد کا احترام برقرار رہے شور و شغب نہ ہو بچے ایسے چھوٹے نہ ہوں جو مسجد کو نا پاک کر دیں انکو مار پیٹ ڈانٹ ڈپٹ نہ کی جائے۔ تعلیم کی وجہ سے نمازیوں کو نماز میں خلل نہ آئے، اگر ان امور کی رعایت نہ ہو سکتی ہو تو تعلیم کا انتظام مسجد سے علیحدہ کیا جائے، مسجد کو مستقلاً مدرسہ بنانے کی اجازت نہیں، چھتہ والی مسجد دیو بند میں ایک استاد نے ایک…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔