الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مال حرام سے بنائی ہوئی مسجد

سوال

عرصہ ۳۵ سال کا گزرا ایک زانیہ عورت (رنڈی) جو زنا کا پیشہ کرتی تھی، ایک ہندو کے پاس رہتی تھی، اس کے پاس اس کمائی ناجائز سے دس پندرہ ہزار روپیہ تھا اس نے خیال کیا کہ اگر اس روپیہ سے ایک جامع مسجد قصبہ متھرا کے اندر تعمیر کرادی جائے تو بہت ثواب ملے گا، اس خیال سے اس نے قصبہ کے اندر ایک جامع مسجد بڑی شاندار بنوادی مسجد تیار ہوگئی، مسلمانوں سے نماز پڑھنے کیلئے کہا گیا تو مسلمانوں نے اور مولویوں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ مسجد رنڈی کے سرمایہ سے بنی ہے، لہذا ہماری نماز اس میں نہیں ہوگی، اور سب مسلمانوں نے اس مسجد میں نماز…

جواب

حرام روپیہ سے کوئی شئی خریدنے میں تفصیل ہے بعض صورتوں میں بیع بالکل ناجائز ہے، اور اس شئی میں حرمت آجاتی ہے، اور بعض صورتوں میں اس شئی میں حرمت نہیں آتی، اور بیع درست ہوتی ہے اگر حرام روپیہ کو پہلے متعین کر کے اور اسکی جانب اشارہ کر کے اس کے عوض زمین وغیرہ خریدی اور مسجد وغیرہ بنوائی ہے تب تو وہ زمین اس کی ملک میں نہیں آئی، اور وہ مسجد مسجد ہی نہیں ہوئی، اور اگر بلاتعین واشارہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو