الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تنخواہ لیکر مسجد میں تعلیم دینا

سوال

مولانا تھانوی مدظلہ کے وعظ میں دیکھا کہ اہل پیشہ کو مسجد میں پیشہ کرنا جائز نہیں، حتی کہ جو شخص قرآن شریف کو تنخواہ پر پڑھاتا ہو اس کو بھی تعلیم قرآن مسجد میں جائز نہیں اس مسئلہ سے یہ سمجھا کہ تعلیم دین کی تنخواہ یا کسب پر دینا مسجد میں نا جائز ہے، مگر اب سوال یہ ہے کہ سہارنپور اور دیو بند کے مدرسہ میں مدرسین کو دیکھا کہ وہ عربی تعلیم مسجد میں دیتے ہیں، اور تنخواہ بھی لیتے ہیں، تو کیا اس میں اختلاف ہے جس کی وجہ سے جواز کی گنجائش ہو یا کچھ اور بات ہے، میں جس بچہ کو قرآن شریف پڑھاتا ہوں بوجہ جگہ نہ ہونے کے مسجد میں…

جواب

جو شخص مصالح مسجد کے لئے مثلاً حفاظت مسجد کے لئے یا دوسری جگہ نہ ہونے کی وجہ سے مجبور مسجد میں بیٹھ کر تعلیم دے اس کوجائز ہے اور محض پیشہ بنا کر مسجد میں بیٹھنا اور تعلیم دینا ناجائز ہے، اور احترام مسجد کے خلاف ہے، سہارنپور یا دیو بند میں کسی کو دیکھا ہے تو ممکن ہے کہ کسی ایسے شخص کو ایسا کرتے ہوئے مسجد میں دیکھا ہو کہ وہ اس کے لئے ملازم نہیں اور اس کا معاوضہ نہیں لیتا مثلاً…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو