الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد میں تعلیم کی حدود

سوال

ایک صاحب جو دیوبند کے فارغ التحصیل ہیں، حفظ کا مدرسہ معہ دارالاقامہ چلا رہے ہیں، مدرسہ اور دار الاقامہ کے لئے ایک مسجد کے اوپر (کمپونڈ میں) گاؤں والوں کی طرف سے دیا گیا ہے، لیکن طلباء کی تعداد کثیر ہونے کی وجہ سے وہ ناکافی ہے، چونکہ مدرسہ میں داخلہ کی کوئی حد مقرر نہیں، بایں وجہ مجبوراً مدرسہ کی عمارت سے زائد مسجد کا استعمال بڑھ گیا ہے، طلباء کی تعلیم بھی مسجد میں ہو رہی ہے، اٹھنے بیٹھنے سونے کے لئے مسجد استعمال ہورہی ہے، کپڑے، دھان، مرچ وغیرہ مسجد میں سکھاتے ہیں، طلباء رات میں سوکر پیشاب سے ناپاک کر دیتے ہیں،…

جواب

اگر قرآن کریم اور دینی تعلیم کے لئے جگہ نہیں تو مسجد میں تعلیم کی گنجائش ہے لیکن مسجد کا احترام لازم ہے، نہ وہاں کوئی کام خلاف احترام مسجد کیا جائے، نماز کے اوقات متعین ہیں وہ اوقات تعلیم کے لئے نہیں جس وقت اوقات متعینہ میں لوگ نماز پڑھتے ہوں تعلیم کی ایسی صورت اختیار نہیں کرنا چاہئے، جس سے نماز میں خلل آئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو