مسجد سے متصل خالی جگہ پر مدرسہ قائم کرنا
سوال
(۱) شاہان مشرقیہ کی تعمیر کردہ جامع مسجد جونپور کے حدود مسجد کے تعین کے بعد پکے فرش سے اس کا تعین کر کے اس سے ملحق نمازیوں کے وضو کیلئے دہ دردہ حوض بنایا گیا تھا، جس پر علماء و مشائخ عمل درآمد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ (۲) حدود مسجد کے علاوہ حوض سے مشرقی دروازے تک مع شمال و جنوب کچی زمین افتاده ہے، اس افتادہ کچی زمین میں کنواں، پودا، نشانِ قبر ہے، کنواں سے وقت ضرورت پر بیل کے ذریعہ پانی حوض میں بھی بھرا جاتا تھا لیکن مولانا ظفر صاحب نے پودا اور نشان قبر خفیہ برابر کروادیا اسی افتاده زمین پر لوگ اور خود مولانا موصوف بھی…
جواب
مسجد کے آس پاس عموماً اور بڑی مسجد کے پاس خصوصاً فرش مسجد سے متصل شمالاً وجنوباً شرقاً اور گا ہے غرباً خالی جگہ باقی رکھنے کا عام معمول تھا تا کہ وقت ضرورت وہاں دینی مکاتب و مدارس قائم کئے جاسکیں، تاکہ تعلیم کا سلسلہ چلے نیز خانقاہ وحجرات بنائے جاسکیں، تاکہ ذاکرین کے ذریعہ ذکر و شغل کا سلسلہ چلے پس ایسی جگہ تعلیم گاہ بنانا اور دینی اجتماعات کرنا مواعظ کی مجالس کرنا بلا شبہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔