الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مخلوط تعلیم مسجد میں دنیوی تعلیم، غیر شرعی لباس کے ساتھ، مسجد میں تعلیم

سوال

مسجد میں قیام مدرسہ میں ۱۴/۱۲ برس کی لڑکیوں کا داخلہ ہے، ایسی صورت میں جبکہ حاجت ضروریہ کے لئے لڑکیوں کا کوئی الگ انتظام نہیں ہے، بلکہ اسی مدرسہ کے عام پاخانہ، پیشاب خانہ میں وہ بھی جاتی ہیں باہر آدمی کھڑا رہتا ہے، جب وہ نکلتی ہے تو مرد جاتا ہے، اور عام آدمی بھی، دیگر یہ کہ اس مسجد کے مدرسہ میں ایک ماسٹر جو بچوں کو انگریزی تعلیم وغیرہ کے لئے آتے ہیں، اور کوٹ پتلون یعنی مغربی لباس میں ہوتے ہیں، کیا ماسٹر صاحب کا ایسے لباس میں آکر مسجد کے ایک دینی ادارہ میں درس دینا درست ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں ان لڑکیوں کا ایسے ادارہ میں تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں، جہاں عورتوں کے ساتھ مردوں کا اختلاط ہو، اس لئے کہ اس میں وقوع فتنہ کا قوی اندیشہ ہے نیز مسجد کے اندر علوم دینیہ کے ماسوا دیگر علوم مثلاً انگریزی وغیرہ کی تعلیم درست نہیں ”كما صرح به في شرح الحموى، ۵۶ لان المسجد ما بنى الالصلوة او اعتكاف وذكر شرعى وتعليم علم وتعلمه وقراءة القرآن الخ“ نیز شرٹ پتلون پہن کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو