مسجد کی نیت سے چھوڑی زمین میں تصرف کا حکم
سوال
ہمارے یہاں ایک نئی آبادی بنائی گئی ہے، وہاں ایک قطعہ زمین مسجد بنانے کے لئے چھوڑی گئی ہے، ابھی وقف نہیں کیا اور نہ ہی ابھی تک مسجد کی بنیاد وغیرہ پڑی ہے اور یہ زمین ہندو پٹواری نے چھوڑی ہے، اب وہ پٹواری اس زمین سے نصف یا کم ایک مولوی صاحب کے نام کرنا چاہتے ہیں، اور بننے والی مسجد بھی انہیں کی ماتحتی میں چلانا چاہتے ہیں، اب دریافت طلب یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں اس زمین میں سے مولوی صاحب کے نام کرانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر چہ ابھی تک وہاں مسجد نہیں بنی اور اس زمین کو وقف بھی نہیں کیا گیا لیکن جب زمین کی منظوری مسجد کے واسطے لی گئی تو اس کو کسی اور کے نام پھر نہ کیا جائے مسجد کی تعمیر اور اس کا انتظام سب کے باہمی مشورہ سے ایک شخص کے سپرد کریں جس کو مسجد اور نماز سے گہرا تعلق ہو اس میں انتظام اور تولیت کی صلاحیت ہو بلکہ ایک کمیٹی بنائی جائے تو بہتر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔