الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد ویران ہونے پر اس کی جائیداد و سامان کا حکم مسجد کو قصداً ویران کرنا

سوال

ہماری ایک غیر آباد مسجد کی جائیداد غیر منقولہ کو متولی نے دوسری مسجد کے متولیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا، بعد ایک مدت کے اس مسجد کو محلہ والوں نے آباد کیا، اب اس کے متولی دوسرے لوگ ہیں ضروریات مصلیوں کیلئے پانی کی ٹنکی غسل خانہ، پیشاب خانہ وغیرہ بنائے کچھ مسجد کی زمین اور کچھ مسجد کی اس زمین میں جو متولی اول نے دوسری مسجد کے متولیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا، اس وجہ سے دوسری مسجد کے متولیوں نے اس زمین کے قبضہ کو چھڑانے کیلئے عدالت میں مقدمہ دائر کیا، عدالت عالیہ نے بعد تحقیقات بلیغہ کے یہ فیصلہ کر دیا کہ زمین در حقیقت…

جواب

اصل یہ ہے کہ جب کوئی شئی شرعی قواعد کے مطابق وقف ہو جائے، تو اس کی بیع نا جائز ہوتی ہے، جس زمین کو شرعی مسجد بنادیا گیا اس کی بیع کسی حال میں درست نہیں ہے، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وقف اور مسجد بن چکی جائیداد منقولہ جو کہ مسجد کی ملک ہے، وہ اس بارے میں مسجد کے حکم میں نہیں ہے، جب مسجد غیر آباد ہو جائے اور کوئی توقع اس آبادی کی نہ رہے اور اس کی جائیداد کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو