مسجد کے دالان میں مدرسہ
سوال
(۱) دوسرا مکتب موتی مسجد میں کئی سالوں سے قائم ہے، جس میں قرآن پاک ناظرہ اور دینی تعلیم اردو، ہندی میں ہوتی ہے، اس میں صرف لڑکے پڑھتے ہیں اور مرد جواکثر علماء ہیں پڑھاتے ہیں، یہ شمال اور جنوبی دالانوں میں مدرسہ اسلامیہ عربیہ کی شاخ کے نام سے قائم ہے، اسکو شاہی اوقاف بھوپال والے نا پسند کرتے ہیں، اور ہٹانا چاہتے ہیں، کیا یہ علم شرعاً صحیح ہے؟ سوال: (۲)
جواب
(۱) اگر یہ واقف کے منشاء اور رضامندی سے ہے تو اس کو ہرگز نہ ہٹایا جائے اور نہ کرایہ کا معاملہ کر لیا جائے۔ (۲) جو دالان مسجد کے مصالح کیلئے وقف ہے اس کے کسی حصہ کو کسی دوسرے کام میں لانا درست نہیں ہے اگر ضرورت مذکورہ کیلئے استعمال کرنا ہے، تو کرایہ پر لے لیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔