مسجد کو مدرسہ بنانا
سوال
ہمارے شہر میں آج سے بارہ سال پہلے تمام مسلمان محلوں میں اعلان کرا کر حیدر علی ٹیپو سلطان، جامع مسجد کے نام سے ایک مسجد کا آغاز کیا گیا، اس وقت سے مسجد میں برابر پنج وقتہ نماز اور خطبہ جمعہ بھی جاری ہے، اب مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے سامنے یہ تجویز آئی ہے کہ چوں کہ مسجد کی جانب مسجد کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کے اس پار غیر مسلموں نے ایک چھوٹا سا مندر بنالیا ہے،اس لئے اس مسجد کو ایک مدرسہ میں تبدیل کر دیا جائے، اور اس سے دو تین قدم ہٹ کر جنوبی جانب اسی نام سے ایک نئی مسجد بنادی جائے، کیا از روئے شرع شریف مذکورہ تجویز…
جواب
جب وہ شرعی مسجد بن گئی اور وہاں اذان و جماعت ہو رہی ہے تو اب مصالح مذکورہ کی وجہ سے اس کو مدرسہ بنانا ور وہاں سے مسجد ہٹا کر اس کے نام سے دوسری جگہ منتقل کر دینا ہرگز جائز نہیں، وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسجد ہے، اذان جماعت کے ساتھ اس کو آبا د رکھا جائے مندر یا کوئی بھی عمارت پاس قریب ہونے سے نماز میں خلل نہیں آئے گا، ” واذا تم ولزم لا يملك ولا يملك اھ درمختار۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔